ابتداے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
ابتداے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیںسو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
Your email address will not be published. Required fields are marked *
Name*
Email*
Website
Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.